Afsany Dramy Novel Kay Chand Auraq -  افسانے ، ڈرامے اور ناول کے چند اوراق
HomeStore

Afsany Dramy Novel Kay Chand Auraq - افسانے ، ڈرامے اور ناول کے چند اوراق

Afsany Dramy Novel Kay Chand Auraq - افسانے ، ڈرامے اور ناول کے چند اوراق

$1.29

Original: $4.30

-70%
Afsany Dramy Novel Kay Chand Auraq - افسانے ، ڈرامے اور ناول کے چند اوراق

$4.30

$1.29

The Story

Pages: 240

Category: Urdu Adab, Short Stories, Afsany

افسانے ، ڈرامے اور ناول کے چند اوراق

"کہانی بھی دریا ہے؛ دریا جو ہماری ذات میں، شاید ہوش سنبھالنے سے پہلے اور ہوش جانے کے بعد بھی بہے جاتا ہے۔ نہیں معلوم کن پہاڑوں سے طلوع اور کس سمندر میں جا کر غروب ہوتا ہے۔ کہیں ہم اس کے مقابل ہیں، کہیں مراقبے میں اس کی لہروں اور گہرائی سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ کہن اور سنن کے بڑے مرحلے ہیں۔ ادب ہم سب کی مشترکہ میراث ہے اور اسی میراث سے جو کچھ مجھے ملا ہے آپ کی نذر ہے۔ کہانیاں کہنے والے ہزاروں ہیں اور انھیں سننے اور پڑھنے والے لاکھوں۔ یہاں کیا کیا عکس ہیں، کیا تموج ہے، کیا بھنور ہیں۔ یہی بہاﺅ ہمارا اعتبار ہے، یہی افتخار ہے۔ امین الدین علی اعلیٰ نے لکھا ہے: ”عجب دریائے بے چوں کا کھڑا ہے لا نہایت۔ یُو اسے انکھیاں سے عرفان کی تمیں، اے عارفاں، دیکھو۔ نہ اس کا ٹھاﺅ کچھ دستا۔ بہو گہرا او دریا ہے۔ جو اس کا انت لینے گئے، ہوے گم گشت۔“ ابھی گم ہونے کی نوبت خیر سے نہیں آئی۔ اس دریا سے کچھ افسانے لے آیا ہوں۔ کوزے میں دریا تو بند نہیں ہے لیکن چند قطرے، پیاس بجھانے یا بھڑکانے کے لیے، موجود ہیں۔"

Description

Pages: 240

Category: Urdu Adab, Short Stories, Afsany

افسانے ، ڈرامے اور ناول کے چند اوراق

"کہانی بھی دریا ہے؛ دریا جو ہماری ذات میں، شاید ہوش سنبھالنے سے پہلے اور ہوش جانے کے بعد بھی بہے جاتا ہے۔ نہیں معلوم کن پہاڑوں سے طلوع اور کس سمندر میں جا کر غروب ہوتا ہے۔ کہیں ہم اس کے مقابل ہیں، کہیں مراقبے میں اس کی لہروں اور گہرائی سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ کہن اور سنن کے بڑے مرحلے ہیں۔ ادب ہم سب کی مشترکہ میراث ہے اور اسی میراث سے جو کچھ مجھے ملا ہے آپ کی نذر ہے۔ کہانیاں کہنے والے ہزاروں ہیں اور انھیں سننے اور پڑھنے والے لاکھوں۔ یہاں کیا کیا عکس ہیں، کیا تموج ہے، کیا بھنور ہیں۔ یہی بہاﺅ ہمارا اعتبار ہے، یہی افتخار ہے۔ امین الدین علی اعلیٰ نے لکھا ہے: ”عجب دریائے بے چوں کا کھڑا ہے لا نہایت۔ یُو اسے انکھیاں سے عرفان کی تمیں، اے عارفاں، دیکھو۔ نہ اس کا ٹھاﺅ کچھ دستا۔ بہو گہرا او دریا ہے۔ جو اس کا انت لینے گئے، ہوے گم گشت۔“ ابھی گم ہونے کی نوبت خیر سے نہیں آئی۔ اس دریا سے کچھ افسانے لے آیا ہوں۔ کوزے میں دریا تو بند نہیں ہے لیکن چند قطرے، پیاس بجھانے یا بھڑکانے کے لیے، موجود ہیں۔"

You may also like

NEW
Thumbnail 1

Kitab Ka Kafan - کتاب کا کفن

$1.79

NEW
Thumbnail 1

Aik Hi Bolee (Phulkari) - ایک ہی بولی

$1.43

-70%NEW
Thumbnail 1

Gadariaa, Ujlay Phool - گڈریا - اجلے پھول

$2.86

$0.86

NEW
Thumbnail 1

Aik Mohabbat Sau Afsanay - ایک محبت سو افسانے

$2.51

-70%NEW
Thumbnail 1

Aatish Zeerpa - آتش زیرپا

$3.76

$1.13

NEW
Thumbnail 1

Amar Bail - Bano Qudsia - امربیل

$3.22

-70%NEW
Thumbnail 1

Tilism I Hosh Afza - طلسم ہوش افزا

$3.04

$0.91

-70%NEW
Thumbnail 1

Subhaney Fsaney - صبحانے افسانے

$2.51

$0.75

-70%NEW
Thumbnail 1

Hijraton Kay Darmiyan - ہجرتوں کے درمیان

$1.97

$0.59

-70%NEW
Thumbnail 1

Doosra Darwaza - دوسرا دروازہ

$2.51

$0.75

-70%NEW
Thumbnail 1

Tavajjuh Ki Talib - توجہ کی طالب

$7.88

$2.36

-70%NEW
Thumbnail 1

Kuch Aur Naheen - کچھ اور نہیں

$2.51

$0.75