Gazwa Tabuk - غزوہ تبوک - حیات طیبہ کا آخری سفر جہاد
HomeStore

Gazwa Tabuk - غزوہ تبوک - حیات طیبہ کا آخری سفر جہاد

Gazwa Tabuk - غزوہ تبوک - حیات طیبہ کا آخری سفر جہاد

$4.47
Gazwa Tabuk - غزوہ تبوک - حیات طیبہ کا آخری سفر جہاد
$4.47

The Story

Pages: 160

Category: Islam

غزوہ تبوک کے لیے سفر شدید گرمی کے موسم میں عین اس وقت شروع کیا گیا جب مدینہ کے باغات کی کھجوریں پک چکی تھیں۔ اہل مدینہ کے پورے سال کی خوراک کا انحصار انہی کھجوروں پر تھا۔ دین اسلام کے یہ جانثار کسی چیز کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سب کحچھ چھوڈ چھاڈ کر اللہ کے رسول ﷺ کا ساتھ دینے کے لئے گھروں سے نکل کھڈے ہوئے۔ اس غزوہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کم وبیش 60 سال کی عمر مبارک میں بنفس نفیس اس میں حصہ لیتے ہے۔ شدید گرمی کے موسم میں 15 دن کا سفر جانے کا ے کرتے ہیں۔ 20 دن تک تبوک میں قیام فرمانے کے بعد 15 روز واپسی کا سفر طے کرکے مدینہ منورہ واپس تشریف لاتے ہیں۔ یہ اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کا سفر تھا۔ یہ کوئی عام جنگ نہ تھی ، یہ غزوہ وقت کی سپرپاور رومی سلطنت کے خلاف تھا۔

اس کتاب میں قارئین کو اندازہ ہوگا کہ دین ایسے ہی آسانی سے نہیں پھیل گیا۔اس کے لیے زبردست کوششیں اور محنیتیں کی گئی ہیں

Gazwa Tabuk - غزوہ تبوک - حیات طیبہ کا آخری سفر جہاد - Image 2

Details & Craftsmanship

Every detail has been carefully considered to bring you the perfect product.

Gazwa Tabuk - غزوہ تبوک - حیات طیبہ کا آخری سفر جہاد - Image 3

Details & Craftsmanship

Every detail has been carefully considered to bring you the perfect product.

Gazwa Tabuk - غزوہ تبوک - حیات طیبہ کا آخری سفر جہاد - Image 4

Details & Craftsmanship

Every detail has been carefully considered to bring you the perfect product.

Description

Pages: 160

Category: Islam

غزوہ تبوک کے لیے سفر شدید گرمی کے موسم میں عین اس وقت شروع کیا گیا جب مدینہ کے باغات کی کھجوریں پک چکی تھیں۔ اہل مدینہ کے پورے سال کی خوراک کا انحصار انہی کھجوروں پر تھا۔ دین اسلام کے یہ جانثار کسی چیز کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سب کحچھ چھوڈ چھاڈ کر اللہ کے رسول ﷺ کا ساتھ دینے کے لئے گھروں سے نکل کھڈے ہوئے۔ اس غزوہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کم وبیش 60 سال کی عمر مبارک میں بنفس نفیس اس میں حصہ لیتے ہے۔ شدید گرمی کے موسم میں 15 دن کا سفر جانے کا ے کرتے ہیں۔ 20 دن تک تبوک میں قیام فرمانے کے بعد 15 روز واپسی کا سفر طے کرکے مدینہ منورہ واپس تشریف لاتے ہیں۔ یہ اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کا سفر تھا۔ یہ کوئی عام جنگ نہ تھی ، یہ غزوہ وقت کی سپرپاور رومی سلطنت کے خلاف تھا۔

اس کتاب میں قارئین کو اندازہ ہوگا کہ دین ایسے ہی آسانی سے نہیں پھیل گیا۔اس کے لیے زبردست کوششیں اور محنیتیں کی گئی ہیں