Manzer Ik Bulandi Say - منظراک بلندی سے
HomeStore

Manzer Ik Bulandi Say - منظراک بلندی سے

Manzer Ik Bulandi Say - منظراک بلندی سے

$4.30
Manzer Ik Bulandi Say - منظراک بلندی سے
$4.30

The Story

Pages: 352

Category: Novels

???? منظر اک بلندی سے (ناول)

خورشید حسنین کا ناول "منظر ایک بلندی سے" خوبصورت زبان اور چست پلاٹ کا ناول ہے۔ جس میں منفرد کرداروں کی یہ دنیا معاشرے کی مختلف تہوں، رویوں اور طبقوں کی نمائندہ بن کر ابھرتی ہے۔ یہ کردار آپس میں معاشرتی اور معاشی رشتوں ناتوں کے پیچیدہ جال میں بندھے ہوئے ہیں اور اس جال میں وہ اپنے مفادات اور رویوں کے تحت نظام اقدار کے متنوع زمروں اور درجوں میں بھی بٹے ہوئے ہیں۔ ہم جس غالب طبقاتی اہرام تلے پس رہے ہیں، ہمارے ناول نگار کا قلم اس کے معاصر معاشی استحصالی کردار کو گرفت کر رہا ہے۔ اسی لیے یہ ناول اپنے قاری کو نہ صرف جمال بلکہ شعور کے مرحلوں سے بھی دو چار کرتا ہے۔

شہر اور کچی آبادیوں کے دیدہ و نادیدہ رشتے اور دونوں کے مسائل ، اور ان سب کے درمیان ماضی سے فرار کی کشمکش کرتے کردار اور ایک بہتر مستقبل کی امیدوں کے لیے جدوجہد کرتے اس ناول کے کردار سب ہمیں اپنے اطراف روز ہی نظر آتے ہیں۔ اس ناول کے مردانہ اور زنانہ کردار ہمہ جہت اور پہلو دار ہیں اور ناول کے بیانیے میں ہم انھیں اپنے ماحول سے نبرد آزما اور اپنے آپ کو بدلتے، کامیاب یا ناکام ہوتے دیکھتے ہیں۔

ڈاکٹر خورشید حسنین جو ماہر طبیعات، افسانہ نگار اور شاعر ہیں، انھوں نے اس ناول میں خود کو کرشن چندر اور شوکت صدیقی جیسے اعلیٰ فکشن نگاروں کی روایت سے جوڑا ہے۔ ان کا خارجی حقیقت نگاری کی تکنیک کو اپنانا عین فطری ہوتے ہوئے ان کے ذہن کا شاندار اظہار ہے جس کا پتا ان کے فن ناول کے مختلف عناصر میں جابجا ملتا ہے۔ وہ اپنی معاصر سماجی و سیاسی صورت حال سے گہرے طور پر آگاہ مصنف ہیں۔ اپنے خیال اور اپنے معروض کے مابین یکجائی ان کے ناول میں بہت تابناکی سے دکھائی دیتی ہے۔

✍️ڈاکٹر روش ندیم

کتاب: منظر اک بلندی سے (ناول)
مصنف: خورشید حسنین
Manzer Ik Bulandi Say - منظراک بلندی سے - Image 2

Details & Craftsmanship

Every detail has been carefully considered to bring you the perfect product.

Description

Pages: 352

Category: Novels

???? منظر اک بلندی سے (ناول)

خورشید حسنین کا ناول "منظر ایک بلندی سے" خوبصورت زبان اور چست پلاٹ کا ناول ہے۔ جس میں منفرد کرداروں کی یہ دنیا معاشرے کی مختلف تہوں، رویوں اور طبقوں کی نمائندہ بن کر ابھرتی ہے۔ یہ کردار آپس میں معاشرتی اور معاشی رشتوں ناتوں کے پیچیدہ جال میں بندھے ہوئے ہیں اور اس جال میں وہ اپنے مفادات اور رویوں کے تحت نظام اقدار کے متنوع زمروں اور درجوں میں بھی بٹے ہوئے ہیں۔ ہم جس غالب طبقاتی اہرام تلے پس رہے ہیں، ہمارے ناول نگار کا قلم اس کے معاصر معاشی استحصالی کردار کو گرفت کر رہا ہے۔ اسی لیے یہ ناول اپنے قاری کو نہ صرف جمال بلکہ شعور کے مرحلوں سے بھی دو چار کرتا ہے۔

شہر اور کچی آبادیوں کے دیدہ و نادیدہ رشتے اور دونوں کے مسائل ، اور ان سب کے درمیان ماضی سے فرار کی کشمکش کرتے کردار اور ایک بہتر مستقبل کی امیدوں کے لیے جدوجہد کرتے اس ناول کے کردار سب ہمیں اپنے اطراف روز ہی نظر آتے ہیں۔ اس ناول کے مردانہ اور زنانہ کردار ہمہ جہت اور پہلو دار ہیں اور ناول کے بیانیے میں ہم انھیں اپنے ماحول سے نبرد آزما اور اپنے آپ کو بدلتے، کامیاب یا ناکام ہوتے دیکھتے ہیں۔

ڈاکٹر خورشید حسنین جو ماہر طبیعات، افسانہ نگار اور شاعر ہیں، انھوں نے اس ناول میں خود کو کرشن چندر اور شوکت صدیقی جیسے اعلیٰ فکشن نگاروں کی روایت سے جوڑا ہے۔ ان کا خارجی حقیقت نگاری کی تکنیک کو اپنانا عین فطری ہوتے ہوئے ان کے ذہن کا شاندار اظہار ہے جس کا پتا ان کے فن ناول کے مختلف عناصر میں جابجا ملتا ہے۔ وہ اپنی معاصر سماجی و سیاسی صورت حال سے گہرے طور پر آگاہ مصنف ہیں۔ اپنے خیال اور اپنے معروض کے مابین یکجائی ان کے ناول میں بہت تابناکی سے دکھائی دیتی ہے۔

✍️ڈاکٹر روش ندیم

کتاب: منظر اک بلندی سے (ناول)
مصنف: خورشید حسنین