Shakh e Zarein Kay Daein Bain - شاخ زریں کے دائیں بائیں
HomeStore

Shakh e Zarein Kay Daein Bain - شاخ زریں کے دائیں بائیں

Shakh e Zarein Kay Daein Bain - شاخ زریں کے دائیں بائیں

$5.01
Shakh e Zarein Kay Daein Bain - شاخ زریں کے دائیں بائیں
$5.01

The Story

Pages: 208

Category: Travelogue (Safarnama)

یہ ڈاکٹر فاروق عادل کی چھٹی کتاب ہے۔ یہ ترکیہ کا سفر نامہ ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عادل نے اردو ادب کی مختلف اضاف میں اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں دیکھا جنھیں پلٹ کے " شخصی خاکوں کی دلچسپ کتاب ہے جس میں قومی ، دینی ، ادبی اور صحافتی اکابرین کے خاکے ہیں ۔ جب مورخ کے ہا تھ بندھے تھے اور "ہم نے جو بھلا دیا تاریخ پاکستان کے گم شدہ اوراق کی داستان ہیں ۔ اس کے علاوہ " جو صورت نظر آئی " بھی شخصی خاکوں پر مبنی ہے اور سفر نامہ امریکا پر مشتمل " ایک آنکھ میں امریکا " بھی ان کی معروف تصنیف ہے ۔ ترکیہ " جسے ہم پاکستانی ترکی " ہی کہتے اور برادر اسلامی ملک کے حوالے سے جانتے ہیں ۔ اسلام کے اخوتی رشتے میں بندھے ہونے کی وجہ سے ہر پاکستانی اور مسلمان کی خواہش ہے کہ وہ ترکیہ کا سفر کرئے اور عشق و محبت کی اس سرزمین کو اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ ڈاکٹر فاروق عادل کو یہ موقع نصیب ہوا اور انہوں نے ترکیہ کا سفر اختیار کیا۔ ان کا مشاہدہ کمال کا ہے ۔ وہ اپنےجذبات واحسات کو مشاہدے کے سا تھ ہم آہنگ کر کے اس سر زمینِ عشق ومستی کوتاریخ کے حوالوں سے اس طرح قلم و قرطاس کی زینت بناتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک تسبیح کے دانوں کی مانند الگ الگ بھی دکھائی دیتا ہےاور باہم مربوط بھی ۔
معروف کالم نگار جناب خورشید ندیم " نے ڈاکٹر فاروق عادل کے بارے میں لکھا ہے کہ " مذہب و سیاست کی تعبیرات و تنوع سے ان کی آگاہی نے اس سفر نامے کو دل کے ساتھ دماغ کا مخاطب بھی بنا دیا ہے۔ اس کا مطالعہ ایک طرف آپ کو وہ لذت دیتا ہے جو ادب کا خاصا ہے ۔ دوسری طرف فکر و نظر کے لیےوہ مواد فراہم کرتا ہے جو تحقیقی مقالے کا امتیاز ہے"

 

Shakh e Zarein Kay Daein Bain - شاخ زریں کے دائیں بائیں - Image 2

Details & Craftsmanship

Every detail has been carefully considered to bring you the perfect product.

Description

Pages: 208

Category: Travelogue (Safarnama)

یہ ڈاکٹر فاروق عادل کی چھٹی کتاب ہے۔ یہ ترکیہ کا سفر نامہ ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عادل نے اردو ادب کی مختلف اضاف میں اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں دیکھا جنھیں پلٹ کے " شخصی خاکوں کی دلچسپ کتاب ہے جس میں قومی ، دینی ، ادبی اور صحافتی اکابرین کے خاکے ہیں ۔ جب مورخ کے ہا تھ بندھے تھے اور "ہم نے جو بھلا دیا تاریخ پاکستان کے گم شدہ اوراق کی داستان ہیں ۔ اس کے علاوہ " جو صورت نظر آئی " بھی شخصی خاکوں پر مبنی ہے اور سفر نامہ امریکا پر مشتمل " ایک آنکھ میں امریکا " بھی ان کی معروف تصنیف ہے ۔ ترکیہ " جسے ہم پاکستانی ترکی " ہی کہتے اور برادر اسلامی ملک کے حوالے سے جانتے ہیں ۔ اسلام کے اخوتی رشتے میں بندھے ہونے کی وجہ سے ہر پاکستانی اور مسلمان کی خواہش ہے کہ وہ ترکیہ کا سفر کرئے اور عشق و محبت کی اس سرزمین کو اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ ڈاکٹر فاروق عادل کو یہ موقع نصیب ہوا اور انہوں نے ترکیہ کا سفر اختیار کیا۔ ان کا مشاہدہ کمال کا ہے ۔ وہ اپنےجذبات واحسات کو مشاہدے کے سا تھ ہم آہنگ کر کے اس سر زمینِ عشق ومستی کوتاریخ کے حوالوں سے اس طرح قلم و قرطاس کی زینت بناتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک تسبیح کے دانوں کی مانند الگ الگ بھی دکھائی دیتا ہےاور باہم مربوط بھی ۔
معروف کالم نگار جناب خورشید ندیم " نے ڈاکٹر فاروق عادل کے بارے میں لکھا ہے کہ " مذہب و سیاست کی تعبیرات و تنوع سے ان کی آگاہی نے اس سفر نامے کو دل کے ساتھ دماغ کا مخاطب بھی بنا دیا ہے۔ اس کا مطالعہ ایک طرف آپ کو وہ لذت دیتا ہے جو ادب کا خاصا ہے ۔ دوسری طرف فکر و نظر کے لیےوہ مواد فراہم کرتا ہے جو تحقیقی مقالے کا امتیاز ہے"