Tifal e Barhana Pa Ka Arooj - طفل برہنہ پا کا عروج
HomeStore

Tifal e Barhana Pa Ka Arooj - طفل برہنہ پا کا عروج

Tifal e Barhana Pa Ka Arooj - طفل برہنہ پا کا عروج

$3.22
Tifal e Barhana Pa Ka Arooj - طفل برہنہ پا کا عروج
$3.22

The Story

Pages: 274

Category: Biography,Rashid Ashraf, Zinda Kitabain

زندہ کتابیں سلسلہ نمبر 351....

بالآخر دو سال کے بعد مصنف کی تحریری اجازت موصول ہوئی اور ہم اس دلچسپ آپ بیتی کو پاکستانی قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ یہ دلچسپ کتاب دو سال قبل ہی شائع ہو جاتی مگر حیف کہ انڈیا ہی سے مصنف کو یہ کہہ کر خوفزدہ کیا گیا کہ اس کی پاکستان سے اشاعت ان کے لیے دشواریاں پیدا کر سکتی ہے۔ راقم نے اس صورتحال کے پیش نظر خاموشی اختیار کی۔ مگر 20 جنوری 2025 ء کو مصنف سے رابطہ ہوا اور انھوں نے بخوشی اپنی کتاب کی اشاعت کی تحریری اجازت دی تو یوں محسوس ہوا گویا مصنف کو خوفزدہ کرنے والے عناصر کو شکست ہوئی ہے۔ پروفیسر جلیس نے لکھا:
I have no objection if the world reads my story

پروفیسر جلیس احمد خان ترین کی پیدائش میسور میں 26 اپریل 1947 کو ہوئی۔ انھوں نے 1967 سے 2007 کا عرصہ میسور یونی ورسٹی میں تدریس و تحقیق میں گزارا۔ 2001 سے 2004 کے دوران کشمیر یونی ورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ پھر 2007 سے 2014 کے دوران پونڈ چیری یونی ورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور 2013 سے 2015 کے دوران بی ایس عبدالرحمان یونی ورسٹی چیئی کے وائس چانسلر رہے۔ وہ مسلم ایجوکیشن سوسائٹی میسور کے بانی سکریٹری تھے ۔

Tifal e Barhana Pa Ka Arooj - طفل برہنہ پا کا عروج - Image 2

Details & Craftsmanship

Every detail has been carefully considered to bring you the perfect product.

Tifal e Barhana Pa Ka Arooj - طفل برہنہ پا کا عروج - Image 3

Details & Craftsmanship

Every detail has been carefully considered to bring you the perfect product.

Description

Pages: 274

Category: Biography,Rashid Ashraf, Zinda Kitabain

زندہ کتابیں سلسلہ نمبر 351....

بالآخر دو سال کے بعد مصنف کی تحریری اجازت موصول ہوئی اور ہم اس دلچسپ آپ بیتی کو پاکستانی قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ یہ دلچسپ کتاب دو سال قبل ہی شائع ہو جاتی مگر حیف کہ انڈیا ہی سے مصنف کو یہ کہہ کر خوفزدہ کیا گیا کہ اس کی پاکستان سے اشاعت ان کے لیے دشواریاں پیدا کر سکتی ہے۔ راقم نے اس صورتحال کے پیش نظر خاموشی اختیار کی۔ مگر 20 جنوری 2025 ء کو مصنف سے رابطہ ہوا اور انھوں نے بخوشی اپنی کتاب کی اشاعت کی تحریری اجازت دی تو یوں محسوس ہوا گویا مصنف کو خوفزدہ کرنے والے عناصر کو شکست ہوئی ہے۔ پروفیسر جلیس نے لکھا:
I have no objection if the world reads my story

پروفیسر جلیس احمد خان ترین کی پیدائش میسور میں 26 اپریل 1947 کو ہوئی۔ انھوں نے 1967 سے 2007 کا عرصہ میسور یونی ورسٹی میں تدریس و تحقیق میں گزارا۔ 2001 سے 2004 کے دوران کشمیر یونی ورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ پھر 2007 سے 2014 کے دوران پونڈ چیری یونی ورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور 2013 سے 2015 کے دوران بی ایس عبدالرحمان یونی ورسٹی چیئی کے وائس چانسلر رہے۔ وہ مسلم ایجوکیشن سوسائٹی میسور کے بانی سکریٹری تھے ۔

You may also like

-70%NEW
Thumbnail 1

Meri Yadon Ke Chinar - میری یادوں کے چنار

$1.97

$0.59

NEW
Thumbnail 1

Baba Sahba - بابا صاحبا

$10.02

-70%NEW
Thumbnail 1

Mitti Ke Sanam - مٹی کے صنم

$1.72

$0.52

NEW
Thumbnail 1

Zikr e Shahaab - زکر شہاب

$5.01

NEW
Thumbnail 1

Mard E Abresham - مرد ابریشم

$2.51

NEW
Thumbnail 1

Raah E Rawaan - راہ رواں

$8.41

-70%NEW
Thumbnail 1

Sab Mumkin Hay - سب ممکن ہے

$5.37

$1.61

-70%NEW
Thumbnail 1

Ghauri - Kuch Nahi Say Sab Kuch - غوری کچھ نہیں سے سب کچھ

$2.33

$0.70

-70%NEW
Thumbnail 1

Qabar Ki Aaghosh - قبر کی آغوش

$3.04

$0.91

-70%NEW
Thumbnail 1

Ban Baas - An Autobiography - بن باس

$3.76

$1.13

-70%NEW
Thumbnail 1

Jhootay Roop Kay Darshan - جھوٹے روپ کے درشن

$5.01

$1.50

NEW
Thumbnail 1

Bichhray Lumhay - بچھڑے لمحے

$7.52